اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے ایٹمی توانائی ادارے (AEOI) کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں نے ایران کی صرف اُن جوہری تنصیبات کا معائنہ کیا ہے جو بمباری سے محفوظ رہیں۔
جمعرات کے روز تہران انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں نیشنل لیزر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کی تازہ ترین کامیابیوں کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسلامی نے زور دیا کہ آئی اے ای اے کے معائنے صرف غیر متاثرہ جوہری مقامات تک محدود رہے۔
انہوں نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے بیانات کے جواب میں کہا ہم نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کو ایک خط تحریر کیا ہے تاکہ وہ امریکی حملے کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں اور یہ تعین کیا جا سکے کہ ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات کے بارے میں کیا ہدایات ہیں۔ جب کسی جوہری تنصیب پر فوجی حملہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں ماحولیاتی خطرات جنم لیتے ہیں، جن کی درست اور واضح تشریح ضروری ہے۔
محمد اسلامی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ معائنہ صرف غیر متاثرہ جوہری تنصیبات سے کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت آئی اے ای اے کے معائنہ کار ایران میں موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیزر، فوٹونکس اور کوانٹم ٹیکنالوجیز مستقبل کے اہم موضوعات ہیں جو عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ دو مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں، جو صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ادارے کے عزم کا واضح ثبوت ہیں۔
روسی فیڈریشن کے ساتھ تعاون کے حوالے سے محمد اسلامی نے کہا کہ ایٹمی توانائی ادارہ ایران نے روس کے ساتھ انتہائی قریبی تعاون اور مؤثر تعامل قائم کر رکھا ہے۔
انہوں نے بوشہر جوہری بجلی گھر کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر سے متعلق بتایا کہ روسی فریق کے ساتھ ان یونٹس پر کام تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔
محمد اسلامی نے مزید کہا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران چھوٹے پیمانے کے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔
اس تقریب میں ایران کے سابق سربراہ ایٹمی توانائی ادارہ علی اکبر صالحی اور نیشنل سینٹر فار لیزر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ سیف اللہ اسداللہی بھی شریک تھے۔
آپ کا تبصرہ